موسم پر 12 شاعری
1. وہی قصہ پرانا ہے
تو کیا لکھنا لکھانا ہے
2. مری کٹیا ٹپکتی ہے
ترا موسم سہانا ہے
3. یہاں آنسو برستے ہیں
وہاں ہنسنا ہنسانا ہے
4. کرم کر آسماں والے
کہاں تک آزمانا ہے
5. میں وہ کشتی ہوں کاغذ کی
جسے اب ڈوب جانا ہے
6. اتر جائے گا جب پانی
مجھے گھر یاد آنا ہے
7. اے بارش بے وفا ہو جا
کہ اب مشکل نبھانا ہے
8. عجب فریب سا وہ اس کا مسکرانا تھا
اسے تو جیسے فقط مجھ کو آزمانا تھا
9. غضب کی بات کہ تم کو بھی اس زمانے میں
مرا ہی گھر تھا جہاں بجلیاں گرانا تھا
10. اسے جہاں میں کوئی دوسرا عدو نہ ملا
نظر میں اس کی فقط میں ہی اک نشانا تھا
11. جو سوز غم سے مجھے ہر نفس بچاتا رہا
خیال یار کی پلکوں کا شامیانہ تھا
12. تو دل کا سادہ تھا عازمؔ تجھے پتہ نہ چلا
کہ دل لگانا یہاں صرف دل جلانا تھا
Comments
Post a Comment