اردو 52 شاعری بےوفا
1: بدلتے لوگ میں نے بہت دیکھے ہیں پر تم نے تو حد ہی کردی۔ 2 : تم نے اس وقت بے وفائی کی یقین جب آخری مقام پر تھا 3 : محبتیں پناہ مانگتی ہیں ۔ لوگ اس قدر بے وفا ہیں آج کل ۔ 4: اے چراغ جلنا ہے تو ہٹ کر جل میرے مزار سے کیونکہ میں پہلے سے جلا ہوا ہوں ایک بیوفا کے پیار سے 5: نہیں بھولے ہم تری وہ غیروں سے گفتگو جلا ہے دل تبھی کرنے لگے ہم مرنے کی آرزو 6: ہمیں ان سے ہے وفا کی امید جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے 7 : کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟ گر تجھے دیکھ کہ چپ چاپ گزر جاؤں میں 8: مل گئے وہ جن سے تجھ کو محبت تھی ہمارا کیا ہم کل بھی اکیلے تھے آج بھی اکیلے 9: میں نے کبھی تیرے عشق میں شرک نہیں کیا لیکن تیرے شرک کو میں نے سہا ضرور ہے 10: میرے بعد اگر کسی کو مجھ جیسا پاؤ تو میرے بعد کسی کی ساتھ مجھ جیسا نا کرنا 11: ایسے بھلا دیا اس نے مجھے جیسے میں اس کی زندگی میں آیا ہی نہیں اب ایسے بھلا دوں گا اس کو میں جیسے وہ میری زندگی میں آئی ہی نہیں 12: تیرے دل کی ہر دھڑکن کی آواز پہچانتا ہوں میں تو بے ...